Ads

Saturday, December 13, 2014

لاڑکانہ کے شہریوں کیا کررہے ہو

کراچی کوڑے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر لگے ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ جولائی میں زیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کراچی میں صفائی ستھرائی کی ابتر صورتحال اور پانی کی قلت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئےواٹر بورڈ اور کے ایم سی کو تنبیہ کی تھی کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر کریں شہر کی صفائی اور لوگوں کے مسائل حل کرنا محکمہ بلدیات اور کے ایم سی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ تاہم حالات بد سے بد تر ہوتے چلے گئے اور اب تو شہر کی اہم شاہراہوں پر پیدل چلنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ وزیر اعلی کی ہدایات پر کتنا عمل ہوا یہ تو سامنے ہی نظر آ رہا ہے البتہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعلی کو اس شہر کے مفادات کس قدر عزیز ہیں۔ ظاہر ہے کہ کراچی کے شہری وزیر اعلی صاحب کی پارٹی کو ووٹ تو دیتے نہیں تو وہ کیوں اس شہر پر مہربانی کریں گے! ارے بابا! اگر ووٹ نہیں دیتے تو اس شہر سے حاصل ہونے والا ریوینیو تو تم ہی لوگ کھا رہے ہو۔ کراچی تو اگر تمہیں ووٹ بھی دے دے تو تم لوگ کبھی  اس شہر پر مہربانی نہیں کرو گے کیونکہ یہ مہاجروں کا شہر ہے ۔
Larkanaویسے سچی بات تو یہ ہے کہ لاڑکانہ  تمہیں ووٹ بھی دیتا ہے اور سندھیوں کا شہر بھی ہے تو تم نے اسے کیا دیا ہے؟ اندرون سندھ کے نام پر سات سو ارب کی موٹی رقم  بغیر ڈکار لئے ہضم کر جاتے ہو اور کسی کو جواب دہ نہیں ہو۔ لاڑکانہ کے شہری بھی نہ جانے کیوں تمہیں ووٹ دیتے ہیں؟ بھٹو کے نام پر ووٹ دینے والے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ بھٹو تو اب انکے مسائل حل کرنے کیلئے آنے سے رہا، لیکن جو اس کے نام پر ووٹ لے رہے ہیں ان سے تو جواب مانگ لو بابا!

Ads