کراچی کوڑے کے
ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر لگے ہیں لیکن کوئی پرسان
حال نہیں ہے۔ جولائی میں زیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کراچی میں صفائی
ستھرائی کی ابتر صورتحال اور پانی کی قلت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئےواٹر
بورڈ اور کے ایم سی کو تنبیہ کی تھی کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر کریں شہر کی صفائی
اور لوگوں کے مسائل حل کرنا محکمہ بلدیات اور کے ایم سی کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
تاہم حالات بد سے بد تر ہوتے چلے گئے اور اب تو شہر کی اہم شاہراہوں پر پیدل چلنا
بھی دشوار ہو گیا ہے۔ وزیر اعلی کی ہدایات پر کتنا عمل ہوا یہ تو سامنے ہی نظر آ
رہا ہے البتہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعلی کو اس شہر کے مفادات کس قدر عزیز
ہیں۔ ظاہر ہے کہ کراچی کے شہری وزیر اعلی صاحب کی پارٹی کو ووٹ تو دیتے نہیں تو وہ
کیوں اس شہر پر مہربانی کریں گے! ارے بابا! اگر ووٹ نہیں دیتے تو اس شہر سے حاصل
ہونے والا ریوینیو تو تم ہی لوگ کھا رہے ہو۔ کراچی تو اگر تمہیں ووٹ بھی دے دے تو
تم لوگ کبھی اس شہر پر مہربانی نہیں کرو
گے کیونکہ یہ مہاجروں کا شہر ہے ۔